Showing posts with label Sad Poetry. Show all posts
Showing posts with label Sad Poetry. Show all posts

Saturday, September 1, 2012

Gali Main Dard Ke Purzay Talash Karti Thi - Wasi Shah-

Gali Main Dard Ke Purzay Talash Karti Thi
Mere Khatoot Ke Tukray Talaash Karti Thi

Kahan Gayi Wo Kunwari, Udaas Bee Aapa ?
Jo Gaon Gaon Mein Rishtay Talaash Karti Thi

Bhulaye Kon Azyat Pasandiyan Uski
Khushi Ke Dhair Main Sadmay Talaash Karti Thi


Ajeeb Hijr Parasti Thi Uski Fitrat Main
Shajar Ke Toot’tay Pat’tay Talaash Karti Thi

Qayaam Karti Thi Wo Mujh Main Soofiyon Ki Tarhan
Udaas Rooh Ke Goshay Talaash Karti Thi

Tamaam Raat Wo Parday Hata Ke Chand Ke Saath
Jo Kho Gaye Thay Wo Lamhay Talaash Karti Thi

Kuch Is Liye Bhi Mere Ghar Se Us Ko Thi Vehshat
Yahan Bhi Apne Hee Pyaaray Talaash Karti Thi

Ghuma Phira Ke Judai Ki Baat Karti Thi
Hamesha Hijr Ke Harbe Talaash Karti Thi

Tamam Raat Wo Zakhma Ke Apni Pooron Ko
Mere Wajood Ke Raizay Talaash Karti Thi

Duaein Karti Thi Ujrre Huway Mazaron Per
Baray Ajeeb Sahaaray Talaash Karti Thi

Mujhe to Aaj Bataya Hai Baadlon Ne ”Wasi”
Wo Laut Aanay Ke Raastay Talaash Karti Thi

Wasi Shah

Qateel Shifai Poetry قتیل شفائی


']


قتیل شفائی
پیدائش:دسمبر1919
انتقال:2001ء
تعارف

صوبہ خیبر پختونخواہ ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔
[ترمیم]کلام کی خصوصیات

قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی ، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں مختلف اصفافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں ایک صف اول کے ترقی پسند شعراء میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے
[ترمیم]نمونہ کلام

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے

آج تک ہے دل کو اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
لاکھھ چاہا ہے کہ اس کو بھول جاؤں، پر قتیل
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی جگہ۔۔
[ترمیم]اعزازت

تمغہ حسن کارکردگی 94ء ، آدم جی ایورڈ ، امیر خسرو ایورڈ ، نقوش ایورڈ ۔ نیز انڈیا کی مگھد یونیورستی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورستی کی دو طالبات نے ایم کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔
[ترمیم]فلمی نغمہ نگاری

پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا ۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دئیے گئے۔
[ترمیم]تصانیف

ہریالی
گجر
جلترنگ
روزن
جھومر
مطربہ
چھتنار
گفتگو
پیراہن
آموختہ
ابابیل
برگد
گھنگرو
سمندر میں سیڑھی
پھوار
صنم
پرچم

Payam Sad Image Poetry



Gham.e.Zindagi





تم یہ وفا جو شام وسحر مانگ رہے ہو
مجھ سےمحبت اخر کس قدرم نگ رہے ہو

خود تم بھی لیلٰی کی محبت مجھ سے کر
مجھ سے وفا مجنون کی اگر مانگ رے ہو

تم مسجد کو کہاں میکدے کا نام دیتے ہو
روز جو شراب تم اِدھر مانگ رہے ہو

اول اول محبت کے مزے اب کہاںملتے ہیں
عجیب ہو کہ وہی لزتیں اج اخر مانگ رے ہو

تم اس جہاں کو تنہا ہی تو آئے تھے پیام
اب جاتے ہوئے کیا ہمسفر مانگ رہے ہو

تم پیام اتنے محتبر کب سے ہوئے
کہ دیداریار اپنے گھر مانگ رہے ہو