Showing posts with label shayari. Show all posts
Showing posts with label shayari. Show all posts

Saturday, September 1, 2012

Kabhi Un ka Naam Lena

Kabhi Un ka Naam Lena
Kabhi Un Ki Baat Kerna

Mera Zauq Un Ki Chahat
Mera Shauq Un Pe Marna


Kabhi Chalte Chalte Thamna
Aur Tham k Beth Jana

Kabhi Larkhara k Girna
Aur Gir K Phir Sambhalna

Kabhi Raat Raat Rona
Kabhi Din Charhey Sisakna

Kabhi Darya Darya Rehna
Kabhi Boondh Ko Tarasna

Hamesha Koi Wasta Hy Apna
YEHI ZINDAGI HY APNI,YEHI RASTA HY APNA ...!!!

Daagh Dehlvi - Ajab Apna Haal Hota Jo Visaal-E-Yaar Hota

Ajab Apna Haal Hota Jo Visaal-E-Yaar Hota
Kabhi Jaan Sadqe Hoti Kabhi Dil Nisaar Hota

Na Mazaa Hai Dushmani Main Na Hai Lutf Dosti Main
Koi Gair Gair Hota Koi Yaar Yaar Hota

Ye Mazaa Tha Dillagi Ka Ke Barabar Aag Lagti
Na Tumhen Qaraar Hota Na Hamein Qaraar Hota


Tere Waade Par Sitamgar Abhi Aur Sabr Karte
Agar Apni Zindagi Ka Hamein Aitbaar Hota

Zakhm-e-Dil Ki Kahaani Kia Karuun ?

Zakhm-e-Dil Ki Kahaani Kia Karuun ?
Mein Teri Ik Ik Nishaani Kia Karuun ?

ZIndagi Ke Dard Boorha Kar Gaye
Aur Boorhaapay Mein Jawaani Kia Karuun ?

Tishnagi Meri Bujhaa Sakta Nahi
Ay Samandar Itna Paani Kia Karuun ?

Koi Bhi Rad-e-Amal Mafqood Hai

Itni Saari Raigaani Kia Karuun ?

Mein Tere Jazbon Ki Shiddat Ka Bayaan
Sirf Qaasid Ki Zabaani Kia Karuun ?

سرائیکی شاعری Seraiki Shayari

سرائیکی شاعری

وفا دار ہاں میں وفا دار رہساں
وفاواں دی نگری دا سردار رہساں
محبت کرن جے گناہ ھے تاں شاکرؔ
گناہ گار ہاں میں گناہ گار رہساں
ــــــــــ

بتاؤ دل کی بازی میں بھلا کیا بات گہری تھی؟

بتاؤ دل کی بازی میں بھلا کیا بات گہری تھی؟
کہا، یُوں تو سبھی کچھ ٹھیک تھا پر مات گہری تھی

سُنو بارش ! کبھی خود سے بھی کوئی بڑھ کے دیکھا ہے؟
جواب آیا، اِن آنکھوں کی مگر برسات گہری تھی

سُنو، پیتم نے ہولے سے کہا تھا کیا، بتاؤ گے؟
جواب آیا، کہا تو تھا مگر وہ بات گہری تھی

دیا دل کا سمندر اُس نے تُم نے کیا کیا اس کا؟

ہمیں بس ڈوب جانا تھا کہ وہ سوغات گہری تھی

وفا کا دَشت کیسا تھا، بتاؤ تُم پہ کیا بِیتی ؟
بھٹک جانا ہی تھا ہم کو ، وہاں پر رات گہری تھی

تُم اس کے ذکر پر کیوں ڈوب جاتے ہو خیالوں میں؟
رفاقت اور عداوت اپنی اس کی سات گہری تھی

نظر آیا تمہیں اُس اجنبی میں کیا بتاؤ گے؟
سُنو، قاتل نگاہوں کی وہ ظالم گھات گہری تھی

کہا اُس نے ، زمانہ درد ہے اور تُم دوا جیسے

کہا اُس نے ، زمانہ درد ہے اور تُم دوا جیسے
لگا، "تُم سے محبت ہے" مجھے اُس نے کہا جیسے

طلب کی اُس نے جب مجھ سے محبت کی وضاحت تو
بتایا، دَشت کے ہونٹوں پہ بارش کی دُعا جیسے

سُنو کیوں دل کی بستی کی طرف سے شور اُٹھتا ہے ؟
بتایا، حادثہ احساس کے گھر میں ہوا جیسے

کہو اے گُل ! کبھی خوشبو کا تُم نے عکس دیکھا ہے ؟

کہا ، قوسِ قزح کے سارے رنگوں کی صدا جیسے

سُنو ، خواہش کی لہروں پر سنبھلنا کیوں ہوا مُشکل ؟
بتایا پانیوں پر خواب کی رکھی بنا جیسے

بھلا تُم رُوح کی اِن کِرچیوں میں ڈھونڈتے کیا ہو ؟
کہا ، یہ اتنی روشن ہیں کہ سُورج ہے دیا جیسے

سُنو آنکھوں ہی آنکھوں کا بیاں کیسا لگا تُم کو ؟
لگا ، پھولوں سے سرگوشی سی کرتی ہو صبا جیسے

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا


کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کئے
ہم ہنس دئیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا

اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے چھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانہ ترا


تو باوفا، تو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا ترا

کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل ترے، پربت ترے، بستی تری، صحرا ترا

ہم پر یہ سختی کی نظر؟ ہم ہیں فقیر راہگزر
رستہ کبھی روکا ترا، دامن کبھی تھاما ترا

ہاں ہاں تیری صورت حسیں لیکن تو اتنا بھی نہیں
اک شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا ترا

بے درد سننی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق ترا، رسوا ترا، شاعر ترا، انشا ترا

Qateel Shifai Poetry قتیل شفائی


']


قتیل شفائی
پیدائش:دسمبر1919
انتقال:2001ء
تعارف

صوبہ خیبر پختونخواہ ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔
[ترمیم]کلام کی خصوصیات

قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی ، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں مختلف اصفافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں ایک صف اول کے ترقی پسند شعراء میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے
[ترمیم]نمونہ کلام

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے

آج تک ہے دل کو اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
لاکھھ چاہا ہے کہ اس کو بھول جاؤں، پر قتیل
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی جگہ۔۔
[ترمیم]اعزازت

تمغہ حسن کارکردگی 94ء ، آدم جی ایورڈ ، امیر خسرو ایورڈ ، نقوش ایورڈ ۔ نیز انڈیا کی مگھد یونیورستی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورستی کی دو طالبات نے ایم کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔
[ترمیم]فلمی نغمہ نگاری

پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا ۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دئیے گئے۔
[ترمیم]تصانیف

ہریالی
گجر
جلترنگ
روزن
جھومر
مطربہ
چھتنار
گفتگو
پیراہن
آموختہ
ابابیل
برگد
گھنگرو
سمندر میں سیڑھی
پھوار
صنم
پرچم